میرا پہلا کاروباری سودہ چین سے اسپیکر منگوانے کا تھا۔ فیکٹری قیمت اچھی لگی، ڈیل پکی ہو گئی، لیکن جب مال ساؤتھمپٹن پہنچا تو کسٹم کا بل ایسا آیا کہ پورا منافع خطرے میں پڑ گیا۔ نئے تاجر یہی غلطی بار بار کرتے ہیں۔ وہ صرف فیکٹری انوائس دیکھتے ہیں اور import duty costs from china to uk کا حساب پہلے سے نہیں لگاتے۔ بریکسٹ (Brexit) کے بعد برطانیہ کے کسٹم قوانین بدل چکے ہیں۔ اگر آپ VAT اور ڈیوٹی کی درست ویلیویشن نہیں کرتے تو 10,000 پاؤنڈ کے سودے پر 2,500 پاؤنڈ تک اضافی بوجھ آ سکتی ہے۔ اس مضمون میں میں وہی حساب اور وہی غلطیاں شیئر کروں گا جن کا میں نے خود سامنا کیا۔
Import Duty Costs From China to UK کا درست حساب کیسے لگائیں؟
یہاں سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں ڈیوٹی صرف مصنوعات کی قیمت پر لگتی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ HMRC کے قوانین کے مطابق ڈیوٹی اور VAT دونوں CIF Value یعنی Cost, Insurance, Freight پر لگتے ہیں۔ مطلب یہ کہ فیکٹری کی قیمت کے ساتھ شپنگ اور انشورنس بھی جڑ جاتے ہیں اور ڈیوٹی اسی کل رقم پر بنتی ہے۔ برطانیہ میں درآمدی ڈیوٹی کی شرح 0% سے 12% تک ہو سکتی ہے، جو مصنوعات کے HS Code پر منحصر ہے، جبکہ معیاری VAT کی شرح فی الحال 20% ہے۔
الیکٹرانکس اور کپڑوں کا فرق: اصل نمبر
مثال سے سمجھیے۔ فرض کریں آپ چین سے الیکٹرانک اسپیکر لا رہے ہیں جن کی CIF ویلیو 10,000 پاؤنڈ ہے۔ الیکٹرانکس کی اوسط ڈیوٹی شرح 0% سے 4% کے درمیان رہتی ہے۔ اگر آپ کے HS Code پر ڈیوٹی 0% نکلتی ہے تو آپ کو صرف 20% VAT یعنی 2,000 پاؤنڈ ادا کرنا ہوگا۔ اب وہی مالیت کے کپڑے (Textiles) لیں جن پر 12% ڈیوٹی لگتی ہے:
- ڈیوٹی: 10,000 کا 12% = 1,200 پاؤنڈ
- VAT کی بنیاد: 10,000 (CIF) + 1,200 (ڈیوٹی) = 11,200 پاؤنڈ
- VAT کی رقم: 11,200 کا 20% = 2,240 پاؤنڈ
- کل کسٹم اخراجات: 3,440 پاؤنڈ
فرق صرف 1,440 پاؤنڈ کا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کپڑوں کی درآمد میں اضافی خرچ 34.4% پہنچ جاتا ہے، جو آپ کو بڑھی ہوئی ریٹیل قیمت میں شامل کرنا ہی پڑے گا، ورنہ سودہ گھاٹے کا بن جائے گا۔ میرے تجربے میں بہت سے تاجر یہ حساب بعد میں لگاتے ہیں، جب مال پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اُس وقت کچھ نہیں بدل سکتے۔
ڈیوٹی ادا کرنے کا طریقہ اور پوشیدہ فیفس
ڈیوٹی اور VAT تو سب جانتے ہیں، لیکن اصل چنگاٹھی Cargo Handling Charges ہوتی ہے۔ جب آپ کا مال ساؤتھمپٹن یا فیلکسٹو پورٹ (Felixstowe Port) پر اترتا ہے تو آپ کا فریٹ فارورڈر ڈیوٹی کے ساتھ ہینڈلنگ کے الگ چارجز وصول کرتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ یہ چھوٹی فیفس جمع ہو کر کئی سو پاؤنڈ بن جاتی ہیں اور کوئی پہلے بتاتا نہیں۔
DDP بمقابلہ FOB: میرا مشاہدہ
اگر آپ 500 سے 1,000 پاؤنڈ کی مالیت کا چھوٹا مال بھیج رہے ہیں تو ہمیشہ DDP (Delivered Duty Paid) پر بات چیت کریں۔ اس میں چینی سپلائر برطانیہ تک کی تمام ڈیوٹیز خود ادا کرتا ہے۔ SimpleChinaSourcing.com جیسی ایجنسیاں DDP سروسز میں مہارت رکھتی ہیں اور آپ کا مال براہ راست گودام تک پہنچا دیتی ہیں، جس سے HMRC کا پیچیدہ کاغذی عمل آپ سے دور رہتا ہے۔ لیکن ایک خامی بھی جان لیں: کچھ سپلائرز DDP میں غلط HS Code استعمال کر کے ڈیوٹی بچاتے ہیں۔ مال تو پہنچ جاتا ہے، لیکن بعد میں کسٹم انکوائری ہوئی تو ذمہ داری درآمد کنندہ یعنی آپ پر آتی ہے۔
بڑی کھیپوں کے لیے FOB (Free on Board) بہتر رہتا ہے کیونکہ کنٹرول آپ کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ برطانوی کسٹم کلئیرنگ ایجنٹ پہلے سے مقرر کریں، ورنہ مال پورٹ پر پڑا رہے گا اور اسٹوریج کے بل بڑھتے جائیں گے۔
احتیاط: مال چین سے روانہ کرنے سے پہلے اپنا HS Code gov.uk کے ٹیرف کیلکولیٹر سے خود تصدیق کریں۔ غلط کوڈ لگا تو مال 3 ہفتے تک کسٹم میں رک سکتا ہے اور ہر دن کسٹم اسٹوریج کا خرچ تقریباً 15 سے 25 پاؤنڈ فی ٹرے لگتا ہے۔ تین ہفتوں کا حساب خود لگا لیں۔
میرا مشورہ سیدھا ہے۔ آرڈر دینے سے پہلے CIF ویلیو بنائیں، HS Code چیک کریں، ڈیوٹی اور VAT کے اعداد کاغذ پر لکھیں، اور تب قیمت طے کریں۔ یہ تین قدم آپ کو ہزاروں پاؤنڈ کے نقصان سے بچا سکتے ہیں۔
Leave a Reply