میں نے گزشتہ چند سالوں میں کئی بین الاقوامی بائرز سے یہی سوال سنا ہے: does india export to china؟ مختصر جواب ہے، ہاں۔ 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی چین کو برآمدات 15.5 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ لیکن میرے تجربے میں صرف یہ نمبر جاننا کافی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ اس ڈیٹا سے اپنی سپلائی چین کیسے بہتر بنائیں۔ چین دنیا کا سب سے بڑا مینوفیکچرنگ ہب ہے۔ بھارت وہاں خام مال بھیجتا ہے، چین اسے پروسیس کر کے تیار مصنوعات پوری دنیا کو ایکسپورٹ کرتا ہے۔ یہی بات بائرز کے لیے موقع بھی ہے اور خطرہ بھی۔

بھارت سے چین کو برآمدات: اہم مصنوعات اور تجارتی حجم کا تجزیہ

جب میں نے does india export to china کے تجارتی ڈیٹا کو غور سے دیکھا تو ایک بات فوراً سامنے آئی۔ درآمد ہونے والی اشیاء میں 70% سے زیادہ حصہ خام مال (Raw Materials) کا ہے۔ اگر آپ الیکٹرانکس، کپڑے یا آٹو پارٹس بنوانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ بات آپ کے لیے براہ راست اہم ہے۔ چین کی فیکٹریاں انہی مصنوعات کے لیے بھارتی خام مال استعمال کرتی ہیں۔

  • آرگینک کیمیکلز: فارما اور پینٹس انڈسٹری کے لیے۔
  • کچا کپاس اور دھات: ٹیکسٹائل اور اسٹیل مینوفیکچرنگ کے لیے۔
  • کھانے کا مال: چاول اور مسالے، چین کی کھپت مارکیٹ کے لیے۔
  • آئی ٹی سروسز: سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ۔

ایک کیس اسٹدی میری یادوں میں ہے۔ ایک یورپی الیکٹرانک برانڈ نے محسوس کیا کہ ان کے چینی سپلائرز تانبے کے خام مال کی قیمتوں میں 12% اضافے کے ذمہ دار ہیں۔ تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہی سپلائر تانبا بھارت سے درآمد کر رہا تھا۔ خریدار نے براہ راست بھارتی مارکیٹ سے تانبے کی تاڑی (Copper Cathode) خریدی اور چینی فیکٹری کو فراہم کی۔ نتیجہ؟ 8% کی بچت۔ یہی فرق آپ کے مارجن کو زندہ رکھتا ہے یا ختم کر دیتا ہے۔

چین میں برآمد کرنے کا عمل: B2B خریداروں کے لیے 5 عملی مرحلے

اگر آپ ایسی پراڈکٹ چاہتے ہیں جو آپ براہ راست بھارت سے خرید کر چین کی فیکٹریوں میں پروسیس کروائیں تو یہ پانچ مرحلے اپنائیں۔ میں خود یہی ترتیب کئی کلائنٹس کے ساتھ استعمال کر چکا ہوں۔

  • HS کوڈ کی شناخت: سب سے پہلے اپنی پراڈکٹ کا بین الاقوامی HS (Harmonized System) کوڈ تلاش کریں۔ بغیر اس کے آگے کوئی بات نہیں بنتی۔
  • چین کی کسٹم پالیسی چیک کریں: GACC (General Administration of Customs of China) کی ویب سائٹ پر جا کر دیکھیں کہ آپ کی پراڈکٹ پر کیا ٹیکس لگتا ہے۔
  • Logistics کا انتخاب: سمندری راستہ (Sea Freight) اپنائیں۔ بمبئی یا چنئی سے شنگھائی یا شینزین بندرگاہ تک سامان بھیجیں۔ معمولی وزن کے خام مال کے لیے یہ سب سے سستا آپشن ہے۔
  • Origin Certificate (CO): بھارتی ایکسپورٹر سے Certificate of Origin لینے پر اصرار کریں۔ اسی دستاویز سے آپ چین میں ڈیوٹی میں رعایت حاصل کرتے ہیں۔
  • پراڈکشن ایگریمنٹ: چینی فیکٹری کے ساتھ Toll Manufacturing کا تحریری معاہدہ کریں کہ وہ آپ کے دیے ہوئے خام مال سے پراڈکٹ تیار کریں گے۔ زبانی وعدہ پر بھروسہ نہ کریں۔

عام غلطیاں اور نقصان سے بچنے کی حکمت عملی

اب کچھ کڑوا سچ بھی سن لیجیے۔ جب آپ does india export to china والے ماڈل پر عمل کرتے ہیں تو شدید خطرات حقیقی ہیں۔ سب سے بڑی غلطی جو میں نے خریداروں میں بار بار دیکھی ہے، چینی کسٹم کے سخت قوانین (GB standards) کو نظر انداز کرنا ہے۔

چین میں ہر قسم کی درآمد کے لیے خصوصی معیار (Quality Standard) طے ہیں۔ اگر آپ کا خام مال چین کے CCC یا ISO معیار پر پورا نہیں اترتا تو مال 14 دن تک کسٹم میں پھنس سکتا ہے، اور آپ کو ڈیمرج (Demurrage) فیس ادا کرنی پڑے گی۔

بچاؤ کی ترکیب: بھارت سے روانگی سے پہلے SGS جیسی تیسری پارٹی انسپیکشن کمپنی سے مال کی جانچ کروائیں۔ انسپیکشن رپورٹ چینی سپلائر اور کسٹم کلئیرنگ ایجنٹ کو پہلے ہی بھیج دیں۔ میرے تجربے میں اس سے وقت 20 فیصد تک بچتا ہے اور مال پھنسنے کا خطرہ تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔

Does India Export to China: ایشیائی مارکیٹ میں قیمتیں کنٹرول کرنا

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خام مال کا براہ راست کنٹرول آپ کو قیمتوں پر طاقت دیتا ہے۔ جب چینی فیکٹری جانتی ہے کہ آپ خود تانبا، کپاس یا کیمیکل منگوا سکتے ہیں تو وہ قیمت اٹھانے کی ہمت نہیں کرتی۔ میں نے کئی بائرز کو صرف اس دباؤ سے 5 سے 8 فیصد تک بہتر ریٹ حاصل کرتے دیکھا ہے۔

لیکن ایک خبردار بات بھی۔ ہر پراڈکٹ کے لیے یہ ماڈل کام نہیں کرتا۔ چھوٹے آرڈرز میں بھارت سے علیحدہ سیمپل، ٹیسٹنگ اور شپمنٹ کا خرچ آپ کی جیب کھا جاتا ہے۔ اگر والیوم چھوٹا ہے تو چینی سپلائر سے ہی مکمل تیار پراڈکٹ خریدنا زیادہ معقول فیصلہ ثابت ہوتا ہے۔ اپنا آرڈر سائز، مارجن اور رسک تینوں ایک ساتھ دیکھیں، پھر قدم اٹھائیں۔

اگلا قدم سیدھا ہے۔ اپنی پراڈکٹ کا HS کوڈ نکالیں، GACC کی پالیسی پڑھیں، اور ایک قابل اعتماد بھارتی ایکسپورٹر سے سیمپل منگوائیں۔ پہلے چھوٹا ٹرائل آرڈر بھیجیں، نتائج دیکھیں، پھر اسکیل کریں۔