کیا آپ چین سے سستے استعمال شدہ کپڑوں کی درآمد پر منافع کما رہے ہیں، لیکن بھارتی کسٹم میں آپ کا مال اٹک کر آپ کا کاروبار نقصان میں جانے کا خطرہ ہے؟ بھارتی درآمد کنندگان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ صرف پروڈکٹ کی قیمت دیکھتے ہیں اور import duty on used clothes from china to india کی درست کیلکولیشن کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ناواقفیت کی وجہ سے اوسطاً 20% سے 30% تک اضافی ٹیکس اور جرمانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ رہنمائی آپ کو کسٹم ڈیوٹی کے مکمل ریاضی، ایچ ایس کوڈز اور کسٹم کلینس کے عملی طریقوں سے آگاہ کرے گی تاکہ آپ کا کنٹینر بندرگاہ پر نہ اٹکے۔
پرانے کپڑوں پر اصل کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسز کی تفصیل (HS Code 6309)
چین سے پرانے کپڑوں کی درآمد کے لیے ہارمونائزڈ سسٹم (HS) کوڈ 6309.00 استعمال ہوتا ہے۔ بھارتی حکومت کے موجودہ ٹیرف سسٹم کے مطابق، اس شے پر درج ذیل ٹیکسز لگتے ہیں:
- بیسک کسٹم ڈیوٹی (BCD): 15%
- سوشل ویلفیئر سرچارج (SWS): 10% (یہ BCD پر لگتا ہے)
- انٹیگریٹڈ گیٹس اینڈ ٹیکسز (IGST): 5%
آئیے ایک حقیقی کیلکولیشن کرتے ہیں۔ اگر آپ کے پرانے کپڑوں کی CIF ویلیو (قیمت، انشورنس اور فریٹ) 10,000 امریکی ڈالر ہے، تو ڈیوٹی کا حساب یوں بنتا ہے: BCD $1,500 + SWS $150 + IGST $582.5۔ یعنی آپ کو کل تقریباً $2,232 (تقریباً 1.85 لاکھ روپے) بطور ٹیکس ادا کرنا ہوں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کی لینڈنگ کاسٹ پروڈکٹ کی اصل قیمت سے 22 فیصد بڑھ جائے گی۔
درآمدی عمل: درست دستاویزات اور ڈس انفیکشن کی اہمیت
پرانے کپڑوں کی ترسیل کے لیے بھارت میں سخت صحت کے اصول موجود ہیں۔ آپ کے پاس یہ دستاویزات نہ ہوں تو کسٹم حکام آپ کا مال ضبط کر سکتے ہیں۔ ان اقدامات پر عمل کریں:
- اسٹیٹ ٹریڈنگ کارپوریشن (STC) لائسنس: بھارت میں استعمال شدہ کپڑوں کی درآمد کے لیے STC کی اجازت لازمی ہے۔ یہ لائسنس حاصل کیے بغیر درآمد غیر قانونی ہے۔
- فومیگیشن اور ڈس انفیکشن سرٹیفکیٹ: چین کے سپلائر سے یہ یقینی بنا لیں کہ وہ پروپر سرٹیفکیٹ فراہم کرے۔ یاد رہے، یورپ کے برعکس بھارت میں ‘پرانے ٹکڑوں’ (Wipers/Rags) اور ‘دوبارہ پہننے والے کپڑوں’ میں بھاری ٹیکس کا فرق ہے۔
- اصل ریسیت: چینی سپلائرز اکثر لوکل مارکیٹ میں 1 ڈالر فی کلوگرام کے کپڑے 0.50 سینٹ کی رسید دیتے ہیں۔ بھارتی کسٹم ماضی کے ڈیٹا بیس سے ملانی کرتا ہے۔ اعتراض سے بچنے کے لیے اصلی قیمت کی رسید (Genuine Invoice) ہی استعمال کریں۔
کیس اسٹڈی: ممبئی کسٹم پر کنٹینر کی رکاوٹ کیسے دور کی گئی
گجرات کے ایک تاجر نے گوانگژو سے 40 فٹ کا کنٹینر بھجوایا۔ اس نے کپڑوں کو ‘سیکنڈ ہ
Leave a Reply