چین کی جیٹ فیول ایکسپورٹ پابندی اصل میں کیا ہے؟
چین جیٹ فیول آزادانہ طور پر ایکسپورٹ نہیں کرتا۔ MOFCOM اور NDRC ہر سال کوٹہ جاری کرتے ہیں۔ 2024 میں چین نے تقریباً 40 ملین ٹن ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات (جیٹ کیروسین، ڈیزل، پٹرول) کی ایکسپورٹ کوٹہ منظور کیں۔ ان میں جیٹ فیول کا حصہ 15 سے 17 ملین ٹن رہا۔ 2025 میں تجارتی تناؤ بڑھا تو نئی کوٹہ الاٹمنٹس سست ہو گئیں اور کئی چھوٹی ایکسپورٹ کمپنیوں کی درخواستیں معطل کر دی گئیں۔ میں نے یہ صورتحال پہلے بھی دیکھی ہے: جس سپلائر کے پاس لائسنس نہیں یا کوٹہ ختم ہو چکا ہے، وہ چینی کسٹم سے کلئیرنس نہیں لے سکتا۔ آپ کا معاہدہ کروڑوں ڈالر کا بھی ہو، کسٹم کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اہم نکتہ: چین سے جیٹ فیول (HS کوڈ 2710.19.11) کی ایکسپورٹ کے لیے MOFCOM کا لائسنس اور سالانہ کوٹہ الاٹمنٹ دونوں لازمی ہیں۔ ایک بھی نہ ہو تو شپمنٹ رک جاتی ہے۔ استثنا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اب اعداد کی بات کریں۔ 2019 میں چین کی جیٹ فیول ایکسپورٹ تقریباً 13 ملین ٹن تھی۔ 2023 تک یہ 17 ملین ٹن سے اوپر جا پہنچی۔ مطلب یہ کہ چین ایشیا کی سپلائی چین کا اہم کھلاڑی بن چکا ہے۔ جب چین نے 2015 میں ڈیزل کوٹہ سخت کیا تو ایشیائی مارکیٹ میں پریمیم تقریباً 40% بڑھا اور نارمل صورتحال بحال ہونے میں چھ ماہ لگے۔ میرے تجربے میں یہی پیٹرن ہر بار دہرایا جاتا ہے۔ خریدار کو پہلے ہی متبادل سوچ رکھنا چاہیے، خبر آنے کے بعد نہیں۔
خریداروں پر مالی اثر: ایک حقیقی منظرنامہ
ایک مثال لیں۔ دبئی کی ایک ٹریڈنگ فرم نے 35,000 بیرل جیٹ کیروسین کا معاہدہ فی بیرل $85 پر کیا۔ 30% ایڈوانس ادا کیا، یعنی تقریباً $890,000۔ پھر China export ban jet fuel کی خبر آئی اور سپلائر نے کہا کہ اس کا کوٹہ ختم ہو چکا ہے۔ اب حالت یہ ہے: ادائیگی چین میں پھنسی ہے اور واپسی میں 6 سے 12 ماہ لگ سکتے ہیں۔ چارٹرڈ میڈیم رینج ٹینکر ڈیمرج میں $30,000 سے $50,000 فی دن کھا رہا ہے۔ سنگاپور سپاٹ مارکیٹ میں پریمیم $1.5 فی بیرل سے بڑھ کر $3.5 فی بیرل پہنچ چکا ہے۔ 30 دن میں 8% سے زائد اضافہ۔ ایک فیصلہ آج ہوا اور چھ ماہ بعد لاکھوں ڈالر کا فرق سامنے ہے۔
معاہدے سے پہلے لائسنس اور کوٹہ کی تصدیق کے 5 عملی اقدام
- بزنس لائسنس چیک کریں: gsxt.gov.cn (قومی انٹرپرائز کریڈٹ سسٹم) پر سپلائر کا 18 ہندسوں کا رجسٹریشن نمبر ڈالیں اور دیکھیں کہ بزنس سکوپ میں پیٹرولیم مصنوعات کی ایکسپورٹ درج ہے یا نہیں۔ کام 10 منٹ کا ہے اور مفت۔ میں نے خود ایسے سپلائر دیکھے ہیں جن کا سکوپ صرف عمومی کیمیکل تھا مگر وہ جیٹ فیول کا وعدہ کر رہے تھے۔
- MOFCOM لائسنس کی کاپی مانگیں: لائسنس پر کمپنی کا قانونی نام اور وہی 18 ہندسوں کا نمبر ہونا چاہیے جو gsxt پر نظر آیا۔ نام میں معمولی فرق بھی ہو تو محتاط رہیں، یہ عام دھوکے کی پہلی نشانی ہے۔
- کوٹہ الاٹمنٹ کا ثبوت لیں: لائسنس اکیلا کافی نہیں۔ سپلائر سے موجودہ سال کی کوٹہ الاٹمنٹ کا دستاویز مانگیں اور یہ بھی پوچھیں کہ سال کا کتنا حصہ استعمال ہو چکا ہے۔ زبانی یقین کوٹہ نہیں بنتا، اس شرط کو معاہدے میں لکھوائیں کہ کوٹہ ختم ہونے کی صورت میں ذمہ داری سیلر کی ہوگی۔
- کسٹم ریکارڈ پوچھیں: سپلائر سے کہیں کہ پچھلے بارہ مہینوں میں HS کوڈ 2710.19.11 کے تحت اس نے کتنی شپمنٹس کیں۔ اگر وہ پہلی بار جیٹ فیول بھیج رہا ہے تو خطرہ آپ کا ہے، اس کا نہیں۔
- ادائیگی کی ساخت بدلیں: 30% ایڈوانس قتل کا بلہ ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ ایڈوانس 10% رکھیں اور باقی 90% بیل آف لڈنگ یا SGS انسپکشن کے بعد۔ بینک تیار ہو تو لاک آف کریڈٹ (LC) بھی بہتر آپشن ہے۔
اگلے 72 گھنٹوں میں کیا کریں؟
پہلا دن: سپلائر کو تحریری طور پر کوٹہ کی صورتحال پوچھیں اور لائسنس نمبر مانگیں۔ دوسرا دن: gsxt.gov.cn پر خود تصدیق کریں اور فریٹ فارورڈر سے ڈیمرج کے درست اعداد نکلوائیں۔ تیسرا دن: سپلائر کو نئی شرائط بھیجیں، کم ایڈوانس، کوٹہ کی گارنٹی، تاخیر پر جرمانہ۔ جواب نہ ملے تو متبادل سپلائر تلاش شروع کر دیں کیونکہ سنگاپور مارکیٹ میں پریمیم ہر ہفتے بڑھ رہا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ سودا وہی خریدار بچاتا ہے جو پہلے 72 گھنٹوں میں فیصلہ کر لیتا ہے، جو مہینے انتظار کرتا ہے وہ نقصان اکٹھا کرتا ہے۔
Leave a Reply