دہلی سے گوانگژو کی ٹکٹ بک ہو چکی، ویزا ریجیکٹ ہو گیا، اور سپلائر کا پیغام آیا کہ Canton Fair کل شروع ہو رہا ہے جبکہ آپ گھر بیٹھے ہیں۔ یہ صورت حال مجھے قریب سے معلوم ہے کیونکہ میرے تجربے میں کئی ہندوستانی درآمدکاروں نے بالکل یہی کہانی سنائی۔ travelling from China to India was not an easy task، یہ کوئی محض جملہ نہیں، پچھلے برسوں کا حقیقی مسئلہ تھا۔ 2025 میں حالات بدلے ہیں: ٹکٹ سستے ہوئے ہیں، ویزا کا عمل شفاف ہوا ہے، اور سب سے اہم بات یہ کہ چین سے خریداری کے لیے چین جانا اب لازمی نہیں رہا۔ اس مضمون میں میں آپ کو اصل اخراجات کا حساب، مرحلہ وار پلان اور سفر کے بغیر سورسنگ کے طریقے بتاؤں گا۔

Travelling from China to India was not an easy task: تین بڑی رکاوٹیں

پہلی رکاوٹ محدود پروازیں تھیں۔ دہلی اور ممبئی سے گوانگژو یا شنگھائی کی سیدھی فلائٹس صرف چند ایئرلائنز چلاتی تھیں، اور کووڈ کے بعد بیڑا چھوٹا ہونے سے 2023 میں ایک راؤنڈ ٹرپ ٹکٹ ₹55,000 تک پہنچ گیا تھا۔ دوسری رکاوٹ ویزا ہے۔ M-visa (کاروباری) کے لیے چینی سپلائر کی invitation letter لازمی ہے، پروسیسنگ میں 4 سے 7 ورکنگ ڈے لگتے ہیں، اور نامکمل دستاویزات پر ریجیکشن کا خطرہ سب سے بڑھ کر رہتا ہے۔

تیسری رکاوٹ زبان اور ادائیگی کی تھی۔ چینی منڈیوں میں WeChat اور Alipay کے بغیر نہ بات چیت آسان ہے نہ لین دین۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ چھوٹے خریدار پہلے دن ہی تھک جاتے تھے کیونکہ نہ ترجمان ہوتا تھا نہ ادائیگی کا کوئی نظام۔ اسی لیے ان کے لیے travelling from China to India was not an easy task جیسا احساس روزمرہ کی حقیقت بن جاتا تھا۔

ایک ہفتے کے سورسنگ ٹرپ کا اصل خرچ: 2025 کے اعداد

  • کاروباری ویزا (M، سنگل انٹری): تقریباً ₹3,900 سے ₹6,500، ساتھ VFS سروس فیس الگ
  • راؤنڈ ٹرپ فلیٹ (دہلی تا گوانگژو): آف سیزن میں ₹22,000 سے ₹30,000؛ Canton Fair کے ہفتوں میں ₹38,000 سے ₹55,000
  • ہوٹل: گوانگژو میں ¥350 سے ¥900 فی رات؛ نمائش کے دنوں میں وہی کمرے 2 سے 3 گنا مہنگے مل جاتے ہیں
  • ترجمان: ¥600 سے ¥1,000 فی دن؛ ہندی بولنے والا ترجمان ¥1,200 تک
  • کھانا اور مقامی سفر: ¥150 سے ¥250 روزانہ (میٹرو اور ڈیڈی ایپ کے ذریعے)

ملا کر 5 دن کے کاروباری دورے کا خرچ آسانی سے ₹95,000 سے ₹1,65,000 بنتا ہے۔ اگر آپ کا آرڈر $3,000 سے $5,000 کا ہو تو یہ رقم آپ کے کل بجٹ کا 25 سے 40% نگل جاتی ہے، یعنی منافع والا سودا نقصان میں بدل سکتا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ پہلے یہی حساب کریں، پھر فیصلہ کریں کہ سفر آپ کے لیے کاروباری طور پر جائز ہے یا نہیں۔

اگر سفر ضروری ہو تو: 6 مراحل کا عملی پلان

  • مرحلہ 1 (سفر سے 5 ہفتے پہلے): سپلائر سے invitation letter لیں۔ اس میں کمپنی کا لائسنس نمبر، آپ کا پاسپورٹ نمبر اور دورے کی تاریخیں درج ہونی چاہئیں
  • مرحلہ 2 (4 ہفتے پہلے): M-visa کے لیے اپلائی کریں۔ پاسپورٹ، تصویر، فارم، 6 ماہ کا بینک اسٹیٹمنٹ (کم از کم ₹2 لاکھ بیلنس) اور ہوٹل بکنگ ضروری ہے
  • مرحلہ 3 (8 ہفتے پہلے فلیٹ بک کریں): Canton Fair ہر سال 15 اپریل تا 5 مئی اور 15 اکتوبر تا 4 نومبر ہوتا ہے۔ آخری 3 ہفتوں کی بکنگ پر 30% تک بھاری قیمت لگتی ہے
  • مرحلہ 4 (درست فیز منتخب کریں): الیکٹرانکس Phase 1 میں (پہلے 5 دن)، صارف اشیاء Phase 2 میں، گارمنٹس اور �