چین سے پاکستان گاڑی درآمد کی اہلیت: پہلے اسکیم، پھر گاڑی

چین سے پاکستان گاڑی درآمد کا ارادہ رکھنے والوں کی سب سے مہنگی غلطی یہ ہے کہ وہ پہلے گاڑی منتخب کرتے ہیں اور اسکیم بعد میں۔ پاکستان کی درآمدی پالیسی کے تحت استعمال شدہ گاڑی صرف دو ذاتی اسکیموں کے تحت آ سکتی ہے، جبکہ نئی گاڑی مکمل ٹیکس ادا کر کے کوئی بھی درآمد کر سکتا ہے:

  • گفٹ اسکیم: بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے فیملی ممبر (والدین، اولاد، شریکِ حیات) کو 1800cc تک کی استعمال شدہ گاڑی بھیج سکتا ہے۔ ایک فائدہ یافتہ سالانہ صرف ایک گاڑی لا سکتا ہے۔
  • بیگیج اسکیم: پاکستان واپس آنے والا شہری جو بیرونِ ملک کم از کم 700 دن رہ چکا ہو، 1800cc تک کی استعمال شدہ گاڑی سامانِ سفر کے طور پر لا سکتا ہے۔
  • کمرشل درآمد: نئی CBU گاڑی پر انجن کے سائز کے مطابق مجموعی ٹیکس 100% سے 250% تک پہنچ جاتا ہے — یعنی $15,000 کی 1500cc نئی گاڑی کی لینڈڈ لاگت $33,000 سے اوپر جا سکتی ہے۔

دو شرطیں یاد رکھیں: استعمال شدہ گاڑی پہلی رجسٹریشن کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ 3 سال پرانی ہونی چاہیے، اور چین سے used گاڑی ایکسپورٹ کرنے والی کمپنی کے پاس MOFCOM کا used-car export لائسنس لازمی ہے (چین میں یہ کاروبار 2019 سے لائسنس کے تحت ہی چلتا ہے)۔ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے پاکستان کی EV پالیسی میں رعایت موجود ہے — اہل EV کا مجموعی ٹیکس اسی سطح کی پٹرول گاڑی سے نمایاں کم آتا ہے، مگر درست فرق ماڈل اور بیٹری سائز پر منحصر ہے، اس لیے حتمی تخمینہ لازمی کروائیں۔

چین سے پاکستان گاڑی درآمد کی اصل لاگت: ایک کیس اسٹڈی

لاہور کے ایک تاجر نے 2024 کے آخر میں شنگھائی سے 1300cc کی دو سال پرانی SUV گفٹ اسکیم کے تحت درآمد کی۔ ان کا مکمل خرچ:

  • گاڑی کی قیمت: ¥60,000 ≈ $8,300 ≈ PKR 23 لاکھ ($1 = ¥7.2 اور $1 = PKR 278 کے حساب سے)
  • RORO شپنگ + میرین انشورنس: $1,250 ≈ PKR