چین سے درآمد شدہ 60% مصنوعات کسٹم پر کیوں پھنستے ہیں؟

میرے تجربے میں نئے درآمد کنندہ اکثر اسی ایک مرحلے پر گرتے ہیں: کسٹم۔ اعداد و شمار بھی یہی کہتے ہیں کہ چین سے درآمد ہونے والی 60% سے زیادہ مصنوعات ہندوستان میں کسٹم کلیئرنس کے مرحلے پر پھنس جاتی ہیں۔ 2023 میں ہندوستان نے چین سے 102 ارب ڈالر سے زائد کی درآمد کی، جن میں الیکٹرانکس، مشینری اور کیمیکلز سرفہرست رہے۔ مگر دوسری طرف 25% سے زیادہ نئے درآمد کنندگان کو کسٹم کے ضوابط، غلط HS کوڈز یا نامکمل دستاویزات کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ میں نے خود ایسے کئی کیس دیکھے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ صحیح ترتیب سے 5 مراحل میں، 45-60 دن کے اندر، اور کسٹم ڈیوٹی میں 35% تک بچت کے ساتھ سامان منگوایا جا سکتا ہے۔ اگر آپ how to import items from china to india تلاش کر رہے ہیں تو پورا عمل نیچے تفصیل سے موجود ہے۔

مرحلہ 1: صحیح پروڈکٹ اور سپلائر کا انتخاب، جہاں 80% نئے خریدار غلطی کرتے ہیں

سب سے سستا آپشن چننا اکثر سب سے مہنگا سودا ثابت ہوتا ہے۔ فرض کریں آپ اسمارٹ واچ ڈھونڈ رہے ہیں: عام سپلائر کی قیمت $8.50 فی پیس ہے جبکہ ISO سرٹیفائیڈ فیکٹری $10.20 مانگتی ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ یہ $1.70 کا فرق معیار کی ضمانت اور ڈیلیوری ٹائم میں 15 دن کی بچت کی صورت واپس آ جاتا ہے۔

  • غلطی نمبر 1: بغیر فیکٹری آڈٹ کے آرڈر دینا۔ چین کے 40% چھوٹے سپلائرز کے پاس برآمدی لائسنس ہی نہیں ہوتا۔ ہر بار SGS یا Bureau Veritas کی رپورٹ طلب کریں۔
  • غلطی نمبر 2: کم از کم آرڈر کوانٹٹی (MOQ) کو نظر انداز کرنا۔ اوسط MOQ 500-1000 پیسز ہے، مگر گروپ خریداری کے ذریعے 35% ڈسکاؤنٹ ممکن ہے۔
  • غلطی نمبر 3: صرف ایک کوٹیشن پر بھروسہ کرنا۔ کم از کم 5 مختلف سپلائرز سے قیمتیں لیں اور ان کی تصدیق شدہ برآمدی تاریخ ضرور دیکھیں۔

ایک حقیقی مثال سن لیں۔ ممبئی کے تاجر راجیش نے $5 فی پیس کے حساب سے پاور بینک منگوائے، مگر 30% ناقص نکلے۔ اگر وہ $150 میں