اگر آپ چین سے پاکستان مال منگواتے ہیں اور پورا کسٹم ڈیوٹی ادا کر رہے ہیں، تو آپ اپنے کاروبار کو نقصان دے رہے ہیں۔ پاک چین فری ٹریڈ ایگریمنٹ (CPFTA) کے تحت 75% سے زائد اشیاء پر صفر فیصد (0%) کسٹم ڈیوٹی ہے۔ پھر بھی اکثر تاجر اس فائدے سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ HS کوڈز اور اوریجن سرٹیفکیٹ کا عمل ان کے سامنے پیچیدہ لگتا ہے۔ میرے تجربے میں یہ فرق ایک ہی کٹینر پر لاکھوں روپے کا بن جاتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ دو درآمدکنندگان نے ایک جیسی مشین منگوائی، ایک نے Form P پیش کیا اور دوسرے نے پورا ٹیکس بھرا۔ فرق صرف دستاویزات کا تھا۔ اس مضمون میں میں آپ کو وہی مراحل بتاؤں گا جن سے آپ کے درآمدی اخراجات کم ہوتے ہیں۔

پاک چین فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے دوسرے مرحلے (CPFTA Phase-II) کی اہم تفصیلات

پاک چین فری ٹریڈ ایگریمنٹ کا دوسرا مرحلہ یکم دسمبر 2019 کو نافذ ہوا۔ اس کے ساتھ فوری طور پر ٹیرف لائنز کا تناسب 35% سے بڑھا کر 75% کر دیا گیا۔ اب پاکستان اور چین کے درمیان تجارت ہونے والی 75% اشیاء پر فوری صفر ڈیوٹی لگتی ہے، جبکہ مزید 10% اشیاء کا ٹیرف 5 سے 10 سال کے عرصے میں مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے۔

اس کا مطلب سیدھا ہے۔ اگر آپ کسی چیز کی درآمد کر رہے ہیں جس پر پہلے 20% یا 30% ڈیوٹی لگتی تھی، تو ممکن ہے وہ اب مکمل طور پر ٹیکس فری ہو۔ اس معاہدے کی بدولت چین نے پاکستان کی 313 مصنوعات، جن میں کھاد، فرنیچر اور مشینری شامل ہیں، پر فوری ڈیوٹی ختم کر دی ہے۔

ایک خرابی بھی بتا دوں۔ ہر شے پر 0% نہیں ہے۔ کچھ ٹیرف لائنز محفوظ ہیں اور بعض پر رعایت آہستہ آہستہ ملتی ہے۔ اس لیے اپنی پروڈکٹ کی فہرست پہلے چیک کریں، اندازے پر کام نہ چلائیں۔

اپنی پروڈکٹ کی اہلیت کی تصدیق کرنے کا طریقہ

صفر ڈیوٹی کی پہلی شرط یہ ہے کہ آپ کی پروڈکٹ کا HS کوڈ (Harmonized System Code) CPFTA کی فہرست میں موجود ہو۔ عام تاجر یہیں غلطی کرتا ہے۔ آپ کو اپنا HS کوڈ چین اور پاکستان دونوں کے کسٹم ٹیرف شیڈول کے مطابق ملانا ہوگا۔

مثال کے طور پر، اگر آپ پلاسٹک کے پائپس درآمد کر رہے ہیں تو آپ کا کوڈ کچھ یوں ہوگا: 3917.23.00۔ یہ کوڈ چین کے GACC پورٹل یا پاکستان کے FBR ویب سائٹ پر تلاش کریں اور دیکھیں کہ CPFTA کے تحت اس پر Reduced یا زیرو ٹیرف (Zero Tariff) لاگو ہوتا ہے یا نہیں۔ تصدیق کے لیے اپنے فریٹ فارورڈر سے بھی پوچھ لیں کیونکہ کوڈ میں ایک ہندسے کی غلطی پوری رعایت ختم کر دیتی ہے۔

اوریجن سرٹیفکیٹ (CO) کے حصول کا عمل اور TDAP کا کردار

ڈیوٹی فری درآمد کا پورا انحصار ایک درست سرٹیفکیٹ آف اوریجن (Form P) پر ہے۔ اس کے بغیر کسٹم کلیئرنس نہیں ہو سکتا۔

مرحلہ 1: سپلائر سے دستاویزات کی فراہمی

اپنے چینی سپلائر کو کھل کر بتائیں کہ آپ CPFTA کے تحت اشیاء درآمد کرنا چاہتے ہیں۔ سپلائر کے پاس چین کے مقامی تجارتی محکمے (CCPIT یا مقامی کامرس بیورو) میں تجارتی رجسٹریشن ہونی چاہیے۔ میرا مشورہ ہے کہ یہ بات آرڈر دینے سے پہلے پوچھ لیں کیونکہ کچھ سپلائر Form P دینے سے صاف انکار کر دیتے ہیں اور پھر دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

مرحلہ 2: اوریجن سرٹیفکیٹ (Form P) کی درخواست

آپ کا چینی سپلائر چائنا کسٹم یا چائنا کونسل فار دی پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ کے ذریعے آن لائن Form P تیار کرواتا ہے۔ ایک بات یاد رکھیں: سرٹیفکیٹ پر فیکٹری کا پتہ اور پروڈکٹ کی تفصیلات آپ کے PI (Proforma Invoice) سے بالکل ملنی چاہئیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ نام میں معمولی فرق بھی کسٹم آفیسر کو شک میں ڈال دیتا ہے اور رعایت روک دی جاتی ہے۔

مرحلہ 3: پاکستان میں کسٹم کلیم

سامان پاکستان پہنچنے کے بعد آپ کا کسٹم کلیرنگ ایجنٹ Form P کو پاکستان کے کسٹم سسٹم (WeBOC) میں جمع کرواتا ہے۔ اس مرحلے میں پاکستان ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (TDAP) سے سرٹیفکیٹ کی تصدیق ہوتی ہے۔ اپنے ایجنٹ کو پہلے ہی بتا دیں کہ شپمنٹ CPFTA کے تحت ہے، ورنہ وہ عام ڈیوٹی کے ساتھ GD بنا دیتا ہے اور بعد میں ریفنڈ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

جن غلطیوں سے آپ کا پیسہ ضائع ہوتا ہے

  • سپلائر سے Form P کی بات آرڈر کے بعد کی، آرڈر سے پہلے نہیں۔
  • HS کوڈ انوائس پر لکھا ہی نہیں یا غلط لکھ دیا۔
  • سرٹیفکیٹ اور PI میں فیکٹری کا نام یا پتہ مختلف ہے۔
  • ایسا سپلائر منتخب کیا جس کی CCPIT رجسٹریشن موجود ہی نہ تھی۔
  • کسٹم کلیرنگ ایجنٹ کو CPFTA کلیم کی اطلاع دینا بھول گئے۔

آخری بات

CPFTA پاکستانی درآمدکنندگان کے لیے سیدھا پیسہ بچانے کا راستہ ہے۔ 75% ٹیرف لائنز پر صفر ڈیوٹی موجود ہے، آپ کو بس تین کام کرنے ہیں: درست HS کوڈ چیک کریں، سپلائر سے Form P پہلے طے کریں، اور کلیرنگ ایجنٹ کو وقت پر مطلع کریں۔ پہلی شپمنٹ پر یہ عمل ذاتی طور پر خود چلائیں، پھر یہ روٹین بن جائے گا اور ہر کٹینر پر ہونے والی بچت براہ راست آپ کے منافع میں شامل ہوگی۔