چین سے پیداواری مال منگانے والے پاکستانی درآمد کار پاکستان کسٹم پر 20% سے 30% تک ڈیوٹی ادا کرتے ہیں اور اپنا منافع وہیں گنوا دیتے ہیں۔ لینڈنگ کے وقت یہ رقم بری طرح جیب خالی کرتی ہے۔ China Pakistan Free Trade Agreement Phase 2 کے تحت ہزاروں اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی اب صفر (0%) ہے، رعایت کی حد 75% تک جاتی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر درآمد کاروں کو Form E اور HS Code کی درست درجہ بندی کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔ میرے تجربے میں لوگ معاہدے کا نام تو سنتے ہیں مگر کاغذات نہیں سنبھالتے، پھر لازمی ٹیکس بھرتے رہ جاتے ہیں۔ اس گائیڈ میں میں وہی عملی طریقہ بتاؤں گا جو ہم SimpleChinaSourcing.com پر کلائنٹس کو بتاتے ہیں۔

China Pakistan Free Trade Agreement Phase 2 کے حقیقی نمبر

فیز 1 کے مقابلے میں فیز 2 نے ٹیرف لائنز کی حد تین گنا بڑھا دی ہے۔ پاکستان نے چین سے آنے والی 313 اشیاء پر فوری ڈیوٹی ختم کر دی (Zero Tariff)، جبکہ کل رعایتی اشیاء کی تعداد 3,000 سے اوپر ہے۔ کپڑا، تعمیراتی مواد اور کئی الیکٹرانک اشیاء پہلے ہی اس فہرست میں شامل ہیں۔ حساب سادہ ہے: اگر آپ کی سالانہ درآمد 100,000 ڈالر ہو اور اوسط ڈیوٹی 15% رہی ہو تو ہر سال 15,000 ڈالر بچ سکتے ہیں۔ یہ رقم کسی نئی مشین یا مارکیٹنگ بجٹ کے لیے کافی ہے۔ اپنی پروڈکٹ لسٹ کے لیے پاکستان بورڈ آف انوسٹمنٹ (BOI) کی ویب سائٹ سے CPFTA Phase 2 Tariff Reduction Schedule ڈاؤن لوڈ کریں۔ ایک احتیاط: schedule میں کچھ اشیاء کی ڈیوٹی فوری ختم نہیں ہوتی بلکہ مرحلہ وار کم ہوتی ہے، اس لیے صرف سرخیاں پڑھ کر مطمئن نہ ہوں، اپنا کوڈ خود چیک کریں۔

Form E کی درست پروسیسنگ: تین اقدامات

صرف معاہدے کا حوالہ دینا کافی نہیں، کاغذات مکمل ہونے چاہئیں۔ یہ تین کام شروع میں ہی کر لیں:

  • HS Code کی تصدیق: خریداری سے پہلے پاکستان اور چین کے HS کوڈز کا موازنہ کریں۔ پاکستان کسٹم کے ٹیرف میں دیکھیں کہ آپ کی اشیاء فیز 2 کی فہرست میں 0% پر ہیں یا نہیں۔ اکثر بار کوڈ مختلف ہوتا ہے اور رعایت ملنے سے رہ جاتی ہے۔
  • سپلائر کو واضح ہدایات: پیمنٹ (L/C یا T/T) فائنل کرنے سے پہلے چینی فیکٹری کو لکھ کر بتائیں کہ آپ کو چائنا کسٹم سے جاری شدہ Form E (Certificate of Origin) درکار ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ چھوٹی فیکٹریاں یہ کاغذ بنانے سے ٹالتی ہیں، اس لیے یہ شرط proforma invoice میں لکھوائیں۔
  • Blanket Period کی پابندی: Form E شپمنٹ کی تاریخ کے 5 دن قبل یا بعد جاری ہونا چاہیے۔ اس حد سے باہر نکلنے پر کسٹم کلئیرنس رک سکتی ہے۔

کیس اسٹڈی: کراچی کے امپورٹر کے لیے ڈیوٹی میں 35% کی کمی

ایک حقیقی مثال لیں: کراچی کے ایک الیکٹرانک پارٹس امپورٹر نے شینزین سے 50,000 ڈالر کا سامان آرڈر کیا۔ اس HS Code (8517.62.00) پر عام حالات میں 35% کسٹم ڈیوٹی لگتی تھی، یعنی 17,500 ڈالر۔ خریدار نے SimpleChinaSourcing.com کی رہنمائی پر عمل کیا اور سپلائر سے CPFTA Phase 2 کے تحت Form E طلب کیا۔ نتیجہ؟ پاکستان کسٹم نے فہرست میں شامل ہونے کی بنیاد پر ڈیوٹی ختم کر دی اور پورے 17,500 ڈالر خریدار کے پاس رہ گئے۔ ایک خرابی یہاں بھی بتا دوں: کلیرنگ ایجنس بے دھیانی میں Form E گڈز ڈیکلریشن (GD) کے ساتھ منسلک کرنا بھول جاتے ہیں، پھر ڈیوٹی واپسی کا عمل مہینوں کھنچ جاتا ہے۔ Form E پہلے ہی دستاویزات کے سیٹ میں رکھوائیں۔

اگلا قدم: آرڈر دینے سے پہلے یہ چیک لسٹ

خلاصہ مختصر ہے: BOI سے schedule ڈاؤن لوڈ کریں، اپنا HS Code ملیں، اور سپلائر سے Form E کی شرط تحریری لے لیں۔ میرے مشورے پر کچھ کلائنٹس نے پہلے چھوٹے ٹرائل آرڈر سے آغاز کیا تاکہ کاغذات کا عمل ٹیسٹ ہو جائے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا اگلا چین سورسنگ آرڈر بغیر بےکار ڈیوٹی کے اترے تو SimpleChinaSourcing.com کی ٹیم سے رابطہ کریں؛ سپلائر نیگوشی ایشن سے لے کر کسٹم دستاویزات تک ہم عملی مدد کرتے ہیں۔