چین سے بھارت تجارت کرنے والے کاروباری افراد کا سب سے بڑا مسئلہ سمندری جہازوں کی سست رفتاری اور کسٹم کی غیر یقینی تاخیر ہے۔ اگر آپ الیکٹرانکس، فیشن آئٹمز یا فوری سیزنل پراڈکٹس کی درآمد کر رہے ہیں، تو سمندری کارگو آپ کا کاروبار ڈوبا سکتی ہے۔ یہاں air cargo china to india کی درست حکمت عملی آپ کے کاروبار کو بچا سکتی ہے، لیکن صرف اس وقت جب آپ فریٹ ریٹس، کسٹم ڈیوٹی اور ہوائی اڈے کے انتخاب کے کھیل کو سمجھیں۔
Air Cargo China to India: موجودہ فریٹ ریٹس اور ٹرانزٹ ٹائم
چین سے بھارت ایئر کارگو کی قیمت ہر کلوگرام کے حساب سے نہیں، بلکہ ‘چارج ایبل وزن’ (Actual Weight vs Volumetric Weight) پر ہوتی ہے۔ فی الحال، شنجن (SZX) یا گوانگژو (CAN) سے نئی دہلی (DEL) یا ممبئی (BOM) کے لیے 100 کلوگرام سے زیادہ بھیجنے پر اوسط ریٹ 2.50 سے 3.80 ڈالر فی کلوگرام ہے۔ اگر آپ 500 کلوگرام سے زیادہ کا مال بھیج رہے ہیں، تو ریٹ 2.20 ڈالر فی کلوگرام تک گر سکتا ہے۔ مکمل ٹرانزٹ ٹائم (پک اپ سے ڈلیوری تک) عام طور پر 3 سے 5 کاروباری دن ہوتی ہے۔ سیدھی پروازیں (Direct Flights) 24 گھنٹے میں ڈلیوری کروا سکتی ہیں، لیکن ان کی قیمت 20% زیادہ ہوتی ہے۔
چارج ایبل وزن کی غلطی سے کیسے بچیں؟
ایک حقیقی مثال: ایک گاہک نے 50 کلوگرام کی پلاسٹک کی خریداری کی۔ جب مال چین کے گودام میں پہنچا، تو اس کا اصل وزن 50 کلو تھا، لیکن کارٹنوں کے حجم کی وجہ سے اس کا وولیومٹرک وزن (L x W x H / 6000) 85 کلوگرام نکلا۔ ایئر لائن نے 85 کلوگرام کا بل بھیجا۔ قابل عمل مشورہ: ہمیشہ سپلائر سے پیکنگ کو زیادہ کمپیکٹ رکھنے کی ہدایت کریں تاکہ بیکار خالی جگہ نہ بنے۔
ایئر پورٹ کا انتخاب: شنگھائی بمقابلہ شنجن
چین کے ہوائی اڈوں کا انتخاب آپ کی فریٹ لاگت کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ ہانگ کانگ (HKG) سب سے مہنگا ہے کیونکہ وہاں ہینڈلنگ چارجز زیادہ ہیں۔ شنگھائی (PVG) انڈسٹریل اور ٹیکسٹائل مصنوعات کے لیے بہترین ہے، جبکہ شنجن (SZX) الیکٹرانکس (جیسے لیپ ٹاپ پارٹس، موبائل ایکسسریز) کے لیے سب سے سستا اور تیز ترین راستہ ہے۔ بھارت میں
Leave a Reply