چین سے مال منگواتے وقت سب سے بڑا خوف یہی ہوتا ہے کہ ادائیگی چلی گئی اور مال نہ آیا۔ میں نے خود ایسے کئی کیس دیکھے ہیں جہاں خریدار نے سپلائر کو پیسے بھیجے اور اگلے دن اس کا فون بند ہو گیا۔ ایسی صورت میں آپ کا واحد سہارا Alibaba Trade Assurance Policy ہے۔ مگر ایک تلخ بات پہلے سن لیں: اوسطاً 40% خریدار اس پالیسی کا صحیح فائدہ نہیں اٹھا پاتے کیونکہ انہیں اس کی شرائط اور ثالثی یعنی Arbitration کے عمل کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔ اس مضمون میں میں اپنے تجربے اور حقیقی مثالوں سے بتاؤں گا کہ یہ پالیسی کب کام کرتی ہے، کب نہیں، اور کلیم دینے کا درست طریقہ کیا ہے۔
Alibaba Trade Assurance Policy کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے؟
یہ علی بابا کا مفت تحفظ پروگرام ہے۔ آپ کی ادائیگی اس وقت تک محفوظ رہتی ہے جب تک سامان آپ تک پہنچ نہ جائے۔ اگر سپلائر مال بھیجنا چھوڑ دے یا کوالٹی آپ کے متفقہ معاہدے یعنی PI (Proforma Invoice) کے خلاف ہو، تو پالیسی کے ذریعے مکمل یا جزوی رقم واپس دلانے میں مدد ملتی ہے۔
ایک اور بات جو زیادہ لوگ نہیں جانتے۔ چین سے برآمد ہونے والے فراڈ کیسز کا 85% حصہ اسی پالیسی کے دائرے سے باہر ہوتا ہے، یعنی وہ ڈیلز جو کبھی آرڈر کے اندر بندی ہی نہیں ہوئیں۔ اس لیے میرا اصول سادہ ہے: کسی بھی چینی فیکٹری کو ادائیگی صرف اس وقت کریں جب آرڈر Trade Assurance کے تحت بند ہو رہا ہو۔
خریداروں کی وہ غلطیاں جو تحفظ ختم کر دیتی ہیں
پہلی اور سب سے مہنگی غلطی: WhatsApp یا براہ راست بینک ٹرانسفر یعنی T/T پر ڈیل کرنا۔ میں نے خود ایک خریدار کو دیکھا جس نے علی بابا پر بات چیت کی مگر ادائیگی باہر بھیج دی۔ سامان نہ آیا تو کسی پاس نہ گیا، کیونکہ علی بابا صرف اسی آرڈر کا ذمہ دار ہے جو اس کے پلیٹ فارم پر بند ہوا ہو۔ پلیٹ فارم سے باہر ادائیگی کا مطلب ہے صفر تحفظ۔
دوسری غلطی، کوالٹی کے پیرامیٹرز واضح نہ کرنا۔ ایک جرمن خریدار نے ہزاروں الیکٹرانک آئٹمز آرڈر کیے مگر انوائس میں صرف ‘اچھی کوالٹی’ لکھوا دیا۔ سامان خراب نکلا۔ کلیم کیا تو مسترد ہو گیا کیونکہ ‘اچھی کوالٹی’ کی کوئی سائنٹفک ڈیفینیشن نہیں ہوتی۔ ثالثی کرنے والا کس پیمانے پر فیصلہ کرتا؟ کسی پر نہیں۔ میرے تجربے میں معاہدے میں ہمیشہ یہ باتیں لکھوائیں: مٹیریل کا ڈیٹا شیٹ، رنگ کا کوڈ مثلاً Pantone نمبر، ڈائمینشنز کی اجازت شدہ حد، اور نقائص کی شرح یعنی AQL لیول۔
کلیم کا عمل: قدم بہ قدم
اگر مسئلہ پیش آئے تو گھبرا کر کچھ نہیں ملتا۔ میرا طریقہ یہ رہا ہے:
- آرڈر کی ونڈو کھول کر Dispute یا Refund by Trade Assurance کا آپشن دبائیں۔
- کھولتے وقت کی ویڈیو بنائیں۔ ان لوڈنگ ریکارڈنگ ثبوت کے طور پر سب سے وزن رکھتی ہے۔
- PI کی شقیں سامنے رکھیں اور وہی بتائیں جو شق ٹوٹی ہے۔
- پہلے سپلائر سے بات کریں۔ اکثر معاملہ اسی مرحلے پر حل ہو جاتا ہے۔
- بات نہ بنے تو Arbitration یعنی علی بابا کی ثالثی میں کیس چھوڑ دیں۔
اس پالیسی کی کمیایاں بھی جان لیں
میں صرف تعریف نہیں کروں گا۔ کلیم کا عمل آسان نہیں، کئی بار ہفتے لگ جاتے ہیں۔ علی بابا انصاف نہیں کرتا، اپنے اصول چلاتا ہے۔ آپ کے ثبوت کمزور ہوں تو فیصلہ سپلائر کے حق میں بھی آ سکتا ہے۔ بڑی ادائیگیوں پر یہ سہارا اکیلا کافی نہیں، ساتھ تھرڈ پارٹی انسپکشن جیسے SGS یا QIMA کروانا بہتر رہتا ہے۔ اور یاد رکھیں، شپمنٹ کے بعد کا نقصان مثلاً ٹرانزٹ میں ٹوٹ پھوٹ، اس پالیسی کے دائرے سے باہر آتا ہے۔
میری آخری رائے
تو کیا Trade Assurance واقعی پیسے بچاتی ہے؟ جی ہاں، مگر صرف تب جب آپ نے اپنا کام درست کیا ہو۔ آرڈر پلیٹ فارم پر بند کریں، ادائیگی باہر نہ بھیجیں، PI میں ہر تفصیل لکھوائیں، اور مال روانہ ہونے سے پہلے انسپکشن کرائیں۔ یہ چار کام آپ کو ان 40% خریداروں میں شامل ہونے سے بچا لیں گے جن کا تحفظ کاغذ پر تھا مگر جیب خالی ہو گئی۔
Leave a Reply