بیمہ سیلز ایجنٹ کا اصل کام کیا ہے؟ 5 ذمہ داریاں

چین سے مال منگواتے ہوئے اگر آپ سپلائر پر یہ چھوڑ دیں کہ CIF شرائط پر انشورنس وہ کر دے گا تو سمجھیں سب سے بڑی غلطی ہو چکی۔ لاہور کے ایک درآمد کار کے ساتھ میں نے یہی دیکھا۔ شینزین سے آیا $18,000 کا الیکٹرانکس کنٹینر سمندری نمی سے 40% خراب ہو گیا۔ معاملہ یہ بنا کہ سپلائر نے پالیسی صرف اپنی FOB لاگت یعنی $13,000 پر لی تھی۔ سروے کی 3 روزہ ڈیڈلائن بھی ہاتھ سے نکل گئی۔ نتیجہ؟ مہینوں بعد بھی ادائیگی صفر۔

یہی وجہ ہے کہ بیمہ سیلز ایجنٹ کا کردار سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ سیدھی بات یہ ہے کہ ایجنٹ محض پالیسی بیچنے والا نہیں، وہ خطرہ جانچنے والا مشیر ہے۔ اس کی 5 ذمہ داریاں ہیں: شپمنٹ کے خطرات کا جائزہ، 3 سے 5 انڈر رائٹرز کا موازنہ، درست کوریج کی سفارش، کاغذی کارروائی، اور نقصان کی صورت میں دعوے کے ہر مرحلے پر ساتھ دینا۔ ایجنٹ کا کمیشن عام طور پر پریمیم کا 10-15% ہوتا ہے اور یہ شرح میں پہلے سے جڑا ہوتا ہے۔ یعنی براہ راست کمپنی سے پالیسی لینے پر آپ کی جیب کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچتا۔ فرق صرف مشورے اور دعوے کی معاونت کا ہے۔

FOB اور EXW خریداری میں ایجنٹ کی اصل آزمائش

FOB یا EXW شرائط پر خریدتے وقت مال بندرگاہ پر لادنے کے بعد کا پورا خطرہ آپ کے سر پر آ جاتا ہے، سپلائر کے پر نہیں۔ یہاں تجربہ کار ایجنٹ کام آتا ہے۔ میرین کارگو انشورنس میں ICC(A)، ICC(B) اور ICC(C) کلازز کا فرق سمجھے بغیر کوٹیشن پر دستخط نہ کریں۔ ICC(C) صرف بڑے حادثات یعنی جہاز کا ڈوبنا، آگ، ٹکراؤ ادا کرتا ہے۔ ICC(A) چوری، ٹوٹ پھوٹ اور ہینڈلنگ ڈیمج جیسے تقریباً تمام خطرات کور کرتا ہے۔ شرحیں CIF قیمت +10% کے 0.08% سے 0.5% کے درمیان رہتی ہیں۔

مثال دیکھیں۔ $20,000 کی شپمنٹ پر ICC(A) کی پریمیم تقریباً $55 اور ICC(C) کی $35 بنتی ہے۔ محض $20 کی بچت، اور بدلے میں جزوی نقصان کے دعوے سے مکمل محرومی۔ یہ بات اصل ایجنٹ آپ کو پہلے دن بتا دیتا ہے۔ جو ایجنٹ صرف کمیشن کے پیچھے بھاگتا ہے، وہ یہ سوال ہی اٹھانے نہیں دیتا۔

حقیقی کیس اسٹڈی: $57 کی پریمیم، $9,776 کی واپسی

کراچی کے ایک گھریلو سامان کے درآمد کار نے 2024 میں گوانگژو سے $21,500 کی شپمنٹ ICC(A) کلاز پر 0.24% شرح سے انشور کروائی۔ پریمیم صرف $57 بنا۔ مقامی ٹرمینل پر ہینڈلنگ کے دوران 12 کارٹن خراب ہو گئے۔ ایجنٹ نے 48 گھنٹے کے اندر سروے رپورٹ، بل آف لینڈنگ، کمرشل انوائس اور پیکنگ لسٹ جمع کروا دیں۔ دعوا 38 دن میں منظور ہوا۔ $10,400 کے تخمینے کا 94% یعنی $9,776 ادا ہوئے۔

اسی دوران دوسرا درآمد کار، جس کے پاس کوئی ایجنٹ نہیں تھا، سروے 10 دن بعد کروایا۔ کمپنی نے ثبوت میں کمی کا حوالہ دے کر دعوا مسترد کر دیا۔ پالیسی دونوں کی ایک جیسی تھی۔ فرق صرف رہنمائی کا تھا۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ دعوے کی قسمت اکثر پہلے 48 گھنٹوں میں طے ہو جاتی ہے۔

ایجنٹ کے ساتھ کام شروع کرنے کے 5 مراحل

  • لائسنس کی تصدیق: پاکستان میں SECP رجسٹریشن نمبر یا امریکہ میں NPN نمبر آن لائن چیک کریں۔ 5 منٹ کا کام ہے اور فراڈ سے بچا لیتا ہے۔
  • تحریری موازنہ مانگیں: کم از کم 3 کمپنیوں کے کوٹیشن ایک ہی کوریج لیول پر لیں۔ فرینچائز/ڈڈکٹیبل (عام طور پر $150-500) تحریری نوٹ کریں۔ زبانی باتیں بعد میں یاد نہیں رہتیں۔
  • دعوے کا ریکارڈ پوچھیں: گذشتہ 12 مہینوں میں ان کے کلائنٹس کے کتنے کارگو دعوے تھے اور کتنے منظور ہوئے۔ 85%+ سیٹلمنٹ ریشو معقول حد سمجھیں۔ جو ایجنٹ یہ جواب دینے سے گھبرائے، وہی آپ کا جواب ہے۔
  • خارج شدہ خطرات تحریری لیں: روٹ اور پیکجنگ کے مطابق hidden damage اور pre-shipment damage اکثر کوریج سے باہر ہوتے ہیں۔ ایجنٹ سے فہرست لکھوا لیں۔
  • دعوے کا پروٹوکول پہلے طے کریں: نقصان کی اطلاع کے 3 دن کے اندر سروے اور مطلوبہ دستاویزات کی فہرست ابھی طے کریں، حادثے کے وقت نہیں۔

5 عام غلطیاں جو درآمد کاروں کو مہنگی پڑتی ہیں

  • CIF کا دھوکھا: سپلائر صرف اپنی FOB لاگت پر انشورنس کرتا ہے۔ آپ کا منافع اور فریٹ تحفظ سے باہر رہتا ہے۔ اس لیے $18,000 فروخت قیمت والے مال کا دعوا $13,000 تک محدود رہ جاتا ہے۔
  • سب سے سستی شرح کا شکار ہونا: 0.08% والی شرح تقریباً ہمیشہ ICC(C) پر ہوتی ہے، جو جزوی نقصان اور ٹھیکائی کور نہیں کرتی۔
  • سروے ڈیڈلائن گنوانا: بیشتر پالیسیاں 3 سے 30 دن کے اندر سروے کی شرط رکھتی ہیں۔ تاخیر سیدھی مستردی پر جاتی ہے۔
  • کنٹینر کھولنے سے پہلے ثبوت نہ جمع کرنا: سیلی نمبر، مہریں اور کھلنے کی ویڈیو نہ ہو تو دعوا کمزور پڑ جاتا ہے۔ اصل ایجنٹ یہ اصول پہلے دن بتا دیتا ہے۔
  • ایئر فریٹ کو محفوظ سمجھنا: $5,000 سے زائد کی ایئر شپمنٹس بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ انشورنس کے بغیر یہ محض جوا ہے۔

لاگت بمقابلہ خطرہ: سیدھا حساب

صنعت کے اعداد و شمار کے مطابق سمندری کنٹینر شپمنٹس کا