میرے کئی کاروباری دوست پچھلے ایک سال میں بڑی مشینری درآمد کر کے نقصان میں رہ گئے۔ ڈالر مہنگا ہوا، بینکوں نے ایل سی (LC) کھلوانا مشکل کر دیا، اور بند پڑی مشینوں نے سرمایہ نگل لیا۔ اس لیے جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ what products we can import from china، تو میرا پہلا جواب یہ ہے: بڑے بلک آرڈر بھول جائیں۔ ہلکے وزن والی، زیادہ مارجن والی چیزیں لیں جن کی مقامی مارکیٹ میں مانگ پہلے سے موجود ہو۔
چین سے درآمد کی 5 منافع بخش اشیاء
نیچے دی گئی 5 اشیاء پر میں نے خود کام کیا ہے یا میرے جاننے والے درآمد کنندگان نے۔ ہر ایک پر منافع کا تناسب کم از کم 300 سے 400 فیصد تک بنتا ہے۔
1. اسمارٹ واچز اور وئیر ایبلز (Smartwatches & Wearables)
شینزین (Shenzhen) کی الیکٹرانکس مارکیٹ میں میں نے خود بنیادی اسمارٹ واچ دیکھی جس میں بلوٹوتھ کالنگ اور ہیلتھ ٹریکنگ شامل تھی۔ قیمت 6 سے 8 ڈالر فی پیس، یعنی تقریباً 1800 روپے۔ وہی واچ پاکستان کی مارکیٹ میں 5,000 سے 6,000 روپے میں جاتی ہے۔
ایک بات سیدھی کہہ دوں: سپلائر پہلی شپمنٹ میں ہمیشہ بہترین کوالٹی بھیجتا ہے۔ تیسری یا چوتھی شپمنٹ میں فرق نکل آتا ہے، اس لیے ہر بیچ پر QC چیک ضرور کروائیں۔
- عملی مشورہ: کسٹم ڈیوٹی بچانے کے لیے ایک شپمنٹ میں 50 سے 100 پیسز کا آرڈر دیں۔ ہلکے وزن کی وجہ سے یہ محض 2 کلوگرام کا بوجھ بنتا ہے اور شپنگ کرایہ کم رہتا ہے۔
2. سولر پارٹس اور لیڈ ایسڈ بیٹریاں (Solar Energy Accessories)
لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی نے سولر کی مانگ بڑھا دی ہے، مگر پینل درآمد نہ کریں۔ پینل بھاری ہوتے ہیں اور فریٹ خرچ کھا جاتا ہے۔ میرے تجربے میں MPPT سولر کنٹرولر اور لیڈ ایسڈ بیٹریاں زیادہ کماتی ہیں۔ گوانگژو کی مارکیٹ میں 100Ah کی بیٹری 35 ڈالر (تقریباً 10,000 روپے) ملتی ہے۔ یہی بیٹری مقامی مارکیٹ میں 22,000 روپے تک فروخت ہو جاتی ہے۔ ایک خرابی بتا دوں: بیٹریاں وزنی ہونے کی وجہ سے ٹرانزٹ میں ڈیمرج کا خطرہ رکھتی ہیں، اس لیے فریٹ فوروارڈر سے شرائط پہلے طے کروائیں۔
3. موبائل فون کے پارٹس اور گیئر (Mobile Accessories)
نئے کاروباری کے لیے ہیڈفونز، TWS ایئرباڈز اور فاسٹ چارجرز سب سے آسان شروعات ہیں۔ ییوو (Yiwu) بازار سے مجھے کوالٹی ایئرباڈ کیرینگ کیس (Carrying Case) سمیت 2 ڈالر (تقریباً 600 روپے) میں ملی۔ یہاں اس کے 1,500 روپے آسانی سے مل جاتے ہیں۔
ایک خاموش نکتہ: لوکل ایئرپورٹ کسٹمز پر چھوٹے پارسلز کی سکریننگ میں ایئرباڈز کو ‘نانڈیجیٹل’ اشیاء میں شمار کیا جاتا ہے، جس سے ڈیوٹی کم لگتی ہے۔
4. کچن گیجٹس اور ہیلتھ پرڈکٹس
کیٹرنگ اور ریستوران بزنس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ چاپنگ بورڈز، کمرشل بلینڈرز اور نیچرل پتھر کے کچن ٹولز کی مانگ ہوٹلوں اور ہوم بیکرز دونوں طرف سے آتی ہے۔ ہائی کوالٹی گرینائٹ کا پیسل اینڈ مارٹر (Mortar & Pestle) سیٹ چین میں 4 ڈالر کا ملتا ہے۔ میٹرو اور ایمپوریم جیسی مارکیٹوں میں اس پر 150 فیصد سے زیادہ منافع بنتا ہے۔ آگاہ رہیں: پتھر کے سیٹ ٹرانزٹ میں ٹوٹ جاتے ہیں، اس لیے سپلائر سے ہر پیس کی فوام پیکیجنگ کروائیں ورنہ نقصان آپ کا ہو گا۔
5. بیوٹی اور پرسنل کیئر مشینری
خواتین کے بیوٹی سیلون کبھی خالی نہیں ہوتے۔ جاپانی اور کورین برانڈز مہنگے پڑتے ہیں، اس لیے چین کے OEM (Original Equipment Manufacturer) سپلائرز سے مائیکرونیڈلنگ پنز، ہیئر سٹریٹنرز اور فوٹوڈائنامک تھراپی مشینیں لیں۔ ان پر خالص منافع 60 سے 80 فیصد تک رہتا ہے۔ پہلا آرڈر چھوٹا رکھیں کیونکہ سستے OEM مشینوں کی وارنٹی نہیں ہوتی، اور خرابی نکلنے پر کوئی ذمہ داری نہیں لیتا۔
ایل سی اور پےمنٹ کا مسئلہ: حل کیا ہے؟
بینک اب ڈالر بھیجنے اور ایل سی (Letter of Credit) کھلوانے میں ہفتوں لگا دیتے ہیں۔ اس انتظار میں سپلائر کا اعتبار جواب دے جاتا ہے اور کئی بار آرڈر کنفرم ہونے سے پہلے ہی ڈیل ٹوٹ جاتی ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کو رینمنبی (RMB) میں براہ راست تجارت کی سہولت مل چکی ہے۔
میں آپ کو تیسری پارٹی ایجنٹس، مثلاً SimpleChinaSourcing.com، کے ذریعے ٹیلی گرافک ٹرانسفر (TT) استعمال کرنے کا مشورہ دوں گا۔ کچھ سپلائرز اپنے تجارتی اکاؤنٹس سے کرنسی کنورژن میں بھی مدد دیتے ہیں۔ ادائیگی چین کے پلیٹ فارمز جیسے پنگ آن (Ping An) یا وے چٹ (WeChat Pay) کے راستے ایجنسی کے ذریعے بھیجی جا سکتی ہے۔ اس طرح آپ کا وقت اور بینک چارجز دونوں بچ جاتے ہیں، اور سپلائر کو ادائیگی اسی دن نظر آتی ہے۔
آخری بات: پہلا آرڈر کبھی بڑا نہ کریں۔ میں نے اپنے پہلے سال میں سیمپل کے بغیر بڑا آرڈر دے کر جو سبق سیکھا، وہ آپ مفت سیکھ لیں۔ سیمپل منگوائیں، کوالٹی خود پرکھیں، پھر سرمایہ لگائیں۔ سپلائر ویریفیکشن اور QC انسپکشن کے لیے آپ SimpleChinaSourcing.com جیسی ایجنسی کی مدد لے سکتے ہیں۔
Leave a Reply