اگر آپ چین سے سستا فرنیچر منگوا کر ہندوستان میں بیچ کر منافع کمانے کا سوچ رہے ہیں، تو ایک منٹ رکیں۔ میرے تجربے میں نئے تاجروں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ صرف فیکٹری قیمت (FOB) کا حساب لگاتے ہیں اور کسٹم ڈیوٹی بھول جاتے ہیں۔ مال بندرگاہ پہنچتے ہی import duty on furniture from china to india کے نام پر کل بل میں تقریباً 40 سے 50 فیصد کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ میں نے خود ایسے تاجروں کو دیکھا ہے جن کا پورا منافع اسی ایک چیز نے کھا لیا۔
چین سے انڈیا فرنیچر درآمد پر لگنے والے ٹیکسز کا مکمل حساب
ہندوستان میں فرنیچر کی درآمد پر ایک ٹیکس نہیں لگتا۔ یہ تین الگ چارجز کا مجموعہ ہوتا ہے۔ آئیے 10,000 روپے (CIF ویلیو) کی ایک wood chair کی مثال سے پورا حساب نکالتے ہیں:
- Basic Customs Duty (BCD): لکڑی کے فرنیچر پر عام طور پر 25% ڈیوٹی۔ (10,000 کا 25% = 2,500 روپے)
- Social Welfare Surcharge (SWS): یہ BCD پر 10% لگتا ہے۔ (2,500 کا 10% = 250 روپے)
- IGST (Integrated GST): شرح 18% ہے، لیکن دھیان رہے، یہ صرف CIF ویلیو پر نہیں لگتا۔ اس کی بنیاد CIF + BCD + SWS کا مجموعہ ہے۔ (12,750 کا 18% = 2,295 روپے)
کل بجھ 5,045 روپے بنتی ہے، یعنی 10,000 روپے کے فرنیچر پر تقریباً 50.45%۔ یہ وہ نمبر ہے جو زیادہ تر سپلائرز آپ کو پہلے نہیں بتاتے۔ چین میں فیکٹری سے نمونہ دیکھ کر جو قیمت اٹھائی جاتی ہے، اصل کہانی تو پورٹ پر شروع ہوتی ہے۔
HSN کوڈ اور کسٹم کلیئرنس کی درست حکمت عملی
فرنیچر درآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ غلط HSN (Harmonized System of Nomenclature) کوڈ ہے
Leave a Reply