اگر آپ کے چین سے منگوائے گئے مال پر 20% سے 30% تک کی ہIDDEN (خفیہ) شپنگ اور کسٹم ڈیوٹی لگ رہی ہے، تو آپ کا منافع صفر ہو چکا ہے۔ زیادہ تر ہندوستوی تاجر اعلیٰ محصول (Tariffs) اور سپلائرز کے دھوکوں کا شکار ہو کراپنا سرمایہ ڈبو دیتے ہیں۔ import export business from china to india میں بقا اور نفع صرف اس وقت ممکن ہے جب آپ اصل Landed Cost (کل لاگت) کو باریکی سے کیلکولیٹ کریں۔ یہ گائیڈ آپ کو ان 5 تباہ کن غلطیوں سے بچاتی ہے جو آپ کے کاروبار کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

1. پروڈکٹ سورسنگ: Alibaba کے بجائے 1688 پر بولی لگانے کا فارمولا

اکثر نئے تاجر Alibaba پر موجود اوورپرائسڈ (مہنگے) پروڈکٹس کو ہی حتمی سمجھ کر ڈیول کر بیٹھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چین کے مقامی مینوفیکچررز کو 1688.com پر لسٹ کیا جاتا ہے۔

ڈیٹا: اگر آپ الیکٹرانکس (جیسے وائیرلیس ایئرپوڈس) خرید رہے ہیں، تو Alibaba پر جو پروڈکٹ آپ کو 5 ڈالر میں ملتی ہے، وہی 1688.com پر مقامی چینی زبان میں لسٹڈ ہونے کی وجہ سے 2.80 ڈالر میں مل جائے گی۔

عملی مشورہ: اپنے پروڈکٹ کی تصویر گوگل لینز (Google Lens) یا Alibaba image search پر ڈالیں۔ سپلائر کی کمپنی کا انگریزی نام پوچھنے کے بجائے، ہمیشہ 1688 پر موجود ان کے مقامی پلانٹ کا فیکٹری لنک مانگیں۔ یہ آپ کی فی یونٹ لاگت کو کم از کم 20 فیصد تک کم کر دے گا۔

2. ہندوستانی کسٹم ڈیوٹی اور BIS کلیئرنس کا کھیل

چین سے ہندوستان مال منگوانے کے دوران سب سے بڑا خطرہ کسٹم پر مال ضبط ہونے کا ہوتا ہے۔

  • حقیقی مثال: نئی دہلی کے ایک الیکٹرانکس امپورٹر نے 5,000 سمارٹ واچس منگوائیں۔ انہوں نے BIS (Bureau of Indian Standards) سرٹیفیکیشن چیک نہیں کی۔ نتیجتاً، ہندوستانی کسٹم نے پوری شپمنٹ کو 3 ماہ کے لیے روک کر رکھا اور 40% پنلٹی لگائی۔
  • مسئلہ: ہندوستان کے موجودہ قوانین کے مطابق، لیتھیم بیوری یا USB چارجنگ والی ہر الیکٹرانک آئٹم پر BIS سٹیکر لازمی ہے۔ جبکہ کاسمیٹکس پر CDSCO کی اجازت چاہیے۔

ٹپ: آرڈر بک کرنے سے پہلے اپنے چینی سپلائر سے سخت احکامات کے ساتھ Indian HS Code اور BIS کنفرمٹی کا سرٹیفکیٹ مانگیں۔ اگر سپلائر اسے فراہم نہیں کرتا، تو فوراً دوسری فیکٹری تلاش کریں۔

3. لاجسٹکس اور فریٹ فارورڈنگ: FOB بمقابلہ EXW

لائن شپنگ (Sea freight) آپ کے لیے بچت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، لیکن غلط انکوٹرمز (Incoterms) کا انتخاب آپ کو دیوالیہ کر سکتا ہے۔

اعداد و شمار: اگر آپ FOB (Free on Board) کے بجائے EXW (Ex Works) کی بنیاد پر معاہدہ کرتے ہیں، تو آپ کو چین کی اندرونی ٹرانسپورٹ، کسٹم کلیرنس اور انشورنس الگ سے برداشت کرنا پڑتا �