چین سے بھارت درآمد: کیا یہ واقعی فائدہ مند ہے؟

میں نے گزشتہ کئی سال چینی سپلائرز کے ساتھ کام کیا ہے، اس لیے یہ باتیں صرف کتابی نہیں۔ 2023 میں بھارت نے چین سے 102 بلین ڈالر سے زائد کی درآمد کی، جو پچھلے سال سے 8.5% زیادہ تھی۔ چین سے بھارت درآمد کے ذریعے ایک عام تاجر میری معلومات کے مطابق 30 سے 40% تک لاگت بچا لیتا ہے۔

یہ بچت صرف مصنوعات کی قیمت میں نہیں، سپلائی چین کی کارکردگی میں بھی ہے۔ الیکٹرانکس پرزوں کی مثال لیجیے۔ ایک ہی قسم کے پرزے چین میں 15 سے 20 روپے میں ملتے ہیں، جبکہ ہندوستان میں وہی پرزے 35 سے 40 روپے کے ہوتے ہیں۔ لیکن ایک انتباہ ضروری ہے۔ غلط طریقے سے سورسنگ کی تو پیسہ بھی جائے گا اور قانونی مسائل بھی کھڑے ہوں گے۔

چین سے بھارت درآمد کے 3 اہم فوائد (حقیقی اعداد کے ساتھ)

پہلا فائدہ: لاگت میں کمی۔ 2022 میں میں نے خود ایک بھارتی کپڑے فروش سے بات کی۔ اس نے چین سے 5000 کلوگرام فیبرک منگوائی جس پر 20 لاکھ روپے لگے۔ وہی فیبرک مقامی طور پر 35 لاکھ روپے میں ملتی تھی۔ نتیجہ: 15 لاکھ روپے کی بچت۔

دوسرا فائدہ: معیار اور تنوع۔ چین میں 50,000 سے زائد فیکٹریاں بین الاقوامی معیار پر کام کرتی ہیں۔ آپ کے پاس 200 سے زائد مصنوعات کی اقسام میں سے انتخاب کا موقع ہوتا ہے۔

تیسرا فائدہ: وقت کی بچت۔ شنگھائی سے ممبئی فریٹ کو اوسطاً 18 سے 25 دن لگتے ہیں۔ یورپ یا امریکہ سے سامان 40 سے 50 دن میں پہنچتا ہے۔ فرق واضح ہے۔

چین سے بھارت درآمد کا عملی راستہ: 4 مراحل

مرحلہ 1: مصنوعات کی شناخت۔ اپنی مقامی مارکیٹ میں مانگ چیک کریں۔ بھارت میں سٹینلیس سٹیل برتنوں کی مانگ 2024 میں 22% بڑھی ہے۔ ایسے ہی نمبروں کی بنیاد پر فیصلہ کریں، محض اندازے پر نہیں۔

مرحلہ 2: قابل بھروسہ سپلائر تلاش کریں۔ علی بابا یا SimpleChinaSourcing.com جیسی سائٹس مددگار ہیں۔ لیکن ایک سپلائر کی کم از کم 3 ریفرنسیں ضرور چیک کریں۔ اس سے کم پر اطمینان نہ کریں۔

مرحلہ 3: شپنگ اور کسٹم کلیئرنس۔ یہاں سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ کسٹم ڈیوٹی صرف 10% ہے، مگر حقیقت میں یہ 15 سے 20% بنتی ہے۔ پہلے سے ڈیوٹی کا حساب لگا لیں، ورنہ منافع یہیں کٹ جائے گا۔

مرحلہ 4: ادائیگی اور پروٹوکول۔ میرا اصول سادہ ہے: 50% ادائیگی آرڈر پر، 50% ڈلیوری کے بعد۔ سامان روانہ ہونے سے پہلے کوالٹی کی تصدیق ضرور کروائیں۔

5 بڑے چیلنجز اور ان سے بچاؤ کے طریقے

یہ وہ جگہ ہے جہاں نئے درآمد کنندہ پھنس جاتے ہیں۔ میں نے یہ مسائل اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔

  • زبان کا فرق: معاہدہ ہمیشہ انگریزی میں کریں۔ ممکن ہو تو چینی مترجم کی خدمات لیں۔
  • کوالٹی کنٹرول: 30% درآمد کنندگان کو اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حل یہ ہے کہ تیسرے فریق جیسے SGS سے معائنہ کروائیں۔
  • قانونی پیچیدگیاں: بھارت میں کچھ مصنوعات، مثلاً الیکٹرانکس، پر BIS سرٹیفیکیشن لازم ہے۔ اس کے بغیر سامان ضبط ہو سکتا ہے۔
  • کرنسی کا اتار چڑھاؤ: چینی یوآن مضبوط ہوا تو لاگت بڑھ جاتی ہے۔ 2023 میں ایک تاجر نے کرنسی ہیجنگ نہ کی تو اسے 8% اضافی لاگت اٹھانی پڑی۔
  • شپنگ ڈیلے: 15% شپمنٹس میں تاخیر ہوتی ہے۔ فریٹ کنٹریکٹ میں پینلٹی کلوز شامل کریں۔

مستقبل کی حکمت عملی: چین بھارت تجارت میں منافع کیسے بڑھائیں؟

آنے والے سالوں میں بھارت کی معیشت 7% سالانہ ترقی کرے گی، جس سے چینی مصنوعات کی مانگ اور بڑھے گی۔ کامیابی کے لیے تین باتیں یاد رکھیں۔ ڈیٹا پر مبنی فیصلے کریں۔ مقامی قوانین اپ ڈیٹ رکھیں۔ اور ایک سے زیادہ سپلائرز سے رابطہ رکھیں تاکہ کسی ایک پر انحصار ن