ممبئی کے ایمپورٹرز مجھ سے اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ایلی بابا (Alibaba) یا گلوبل سورسز (Global Sources) پر جو قیمت نظر آتی ہے، وہ اصل فیکٹری ریٹ سے 20 سے 30 فیصد اوپر ہوتی ہے۔ بڑے آرڈر میں یہ فی یونٹ (Per Unit) کا فرق سارا منافع نگل جاتا ہے۔ وجہ سیدھی سی ہے: آپ مینوفیکچرر تک نہیں پہنچ رہے۔ درمیان میں ٹریڈنگ کمپنیاں اور مڈل مین کھڑے ہوتے ہیں۔ یہیں سے ایک پیشہ ور China sourcing agent in Mumbai کا کام شروع ہوتا ہے، جو خریداری کو سستا بھی بناتا ہے اور دھوکے اور کوالٹی کے مسائل سے بھی بچاتا ہے۔
ایک پیشہ ور China Sourcing Agent in Mumbai آپ کے لیے کیا کرتا ہے؟
اچھی ایجنسی صرف مال بک نہیں کرتی، وہ آپ کے فیصلوں میں شامل ہوتی ہے۔ میرے تجربے میں ممبئی کے کاروباریوں کے لیے یہ تین کام سب سے زیادہ کام آئے:
- وھول سیل مارکیٹ سے براہ راست خرید: گوانگژو (Guangzhou) اور ییوو (Yiwu) کی مارکیٹوں تک سیدھی رسائی، جہاں ایم او کیو (MOQ – Minimum Order Quantity) بہت کم ہوتی ہے۔ چھوٹے آرڈر والوں کے لیے یہی سب سے بڑی ریلیف ہے۔
- فیکٹری آڈٹ اور ڈو فراڈ سے بچاؤ: 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں 40 فیصد سے زائد سپلائرز اصلی فیکٹریاں نہیں، ٹریڈنگ کمپنیاں ہیں۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ بیچ میں کتنے مارجن چھپے ہوتے ہیں۔ ہم اصل فیکٹری کی نشاندہی کرتے ہیں۔
- کیفٹی کنٹرول (QC) انسپکشن: مال کے شیپ ہونے سے پہلے تیسری پارٹی (Third-party) انسپکشن۔ یہ مرحلہ چھوڑ دینا مہنگا پڑتا ہے، نیچے اس کی مثال بھی ہے۔
مثال: راجیش (ہارڈویئر بزنس، ممبئی) کا کیس اسٹڈی
مانکچورا مارکیٹ میں ہارڈویئر کا کاروبار کرنے والے راجیش نے گوانگژو سے 10,000 پائپ فٹنگز کا آرڈر رکھا۔ آن لائن تلاش پر انہیں فی پیس 1.2 ڈالر کی قیمت مل رہی تھی۔ ہماری ٹیم نے بطور China sourcing agent in Mumbai ان کے لیے براہ راست فوشان (Foshan) کی فیکٹری سے رابطہ کیا۔ قیمت 0.80 ڈالر پر آ گئی۔ اس کے بعد SGS انسپکشن کے ذریعے 15 فیصد خراب پیس بھی واپس کروا لیے۔ نتیجہ: ایک ہی آرڈر پر 3,800 ڈالر بچے۔ راجیش نے یہی رقم نئے سٹاک پر لگائی۔
کن مارکیٹوں سے خریداری کریں؟
چین میں ہر شہر کا اپنا زور ہے۔ غلط شہر میں پروڈکٹ ڈھونڈنے گئے تو وقت اور پیسہ دونوں ضائع۔ میں نے نئے ایمپورٹرز کو یہ غلطی کرتے دیکھا ہے، اس لیے ی
Leave a Reply