اگر آپ Amazon FBA سیلر ہیں یا چھوٹا درآمدی کاروبار چلاتے ہیں تو «چین سے تجارت ختم ہو رہی ہے» والی خبریں آپ کی سورسنگ پلاننگ بگاڑ سکتی ہیں۔ what percentage does US import from China کا درست جواب جانے بغیر آپ یا تو بے وجہ ٹیرف برداشت کریں گے یا ایسی مارکیٹ چھوڑ دیں گے جہاں آپ کے مقابلے والے آج بھی 40 سے 60 فیصد مارجن بنا رہے ہیں۔ میں نے یہ رہنما سرکاری اعداد و شمار، موجودہ ٹیرف ریٹس اور ایک حقیقی landed cost مثال کے ساتھ تیار کیا ہے تاکہ آپ خود طے کر سکیں کہ 2025 میں چین سے درآمد کہاں فائدہ دیتی ہے اور کہاں نقصان۔
بنیادی جواب: What Percentage Does US Import From China؟
امریکی مردم شماری بیورو (US Census Bureau) کے 2023 کے اعداد کے مطابق امریکہ نے چین سے 427.2 ارب ڈالر کی اشیاء منگوائیں۔ یہ کل اشیائی درآمد (تقریباً 3.17 ٹریلین ڈالر) کا 13.5 فیصد بنتا ہے۔ 2017 میں یہی شرح 21.6 فیصد تھی، یعنی چھ سالوں میں چین کا حصہ تقریباً 8 پوائنٹس سکڑ گیا۔ اسی دوران میکسیکو (تقریباً 475 ارب ڈالر) پہلی بار امریکہ کا سب سے بڑا درآمدی شراکت دار بنا۔ مگر سطح کے نیچے تصویر مختلف ہے: 2022 میں چین سے درآمد ریکارڈ 536 ارب ڈالر پر پہنچی تھی اور 2024 کی پہلی سہ ماہی میں بھی تقریباً 100 ارب ڈالر رہی۔ ڈیمانڈ ختم نہیں ہوئی، صرف کچھ شعبے دوسرے ممالک کی طرف جا چکے ہیں۔
کن مصنوعات میں چین کا حصہ سب سے زیادہ فیصد ہے؟
پروڈکٹ کیٹیگری بدلتے ہی «امریکہ چین سے کتنا فیصد درآمد کرتا ہے» کا جواب بدل جاتا ہے:
- کھلونے اور بورڈ گیمز: امریکہ میں فروخت ہونے والے تقریباً 70 سے 80 فیصد کھلونے چین میں تیار ہوتے ہیں۔ Guangdong صوبہ اکیلا عالمی ٹائے سپلائی چین کا مرکز ہے۔
- الیکٹرانکس اور مشینری: مشینری اور الیکٹریکل سامان، چین سے درآمد کی دو سب سے بڑی کیٹیگریاں، مل کر سالانہ 200 ارب ڈالر سے اوپر جاتی ہیں۔ iPhone کی اسمبلی کا بڑا حصہ آج بھی چین میں ہوتا ہے۔
- فرنیچر: امریکہ کی کل فرنیچر درآمد میں چین کا حصہ تقریباً 28 سے 30 فیصد ہے۔ 2010 کی دہائی میں یہ ~50 فیصد تھا، گرنے کے باوجود چین سب سے بڑا واحد ذریعہ ہے۔
- لباس اور جوتے: یہاں ویت نام، بنگلہ دیش اور انڈیا آگے نکل چکے ہیں۔ چین کا حصہ تقریباً 20 سے 25 فیصد رہ گیا ہے۔
حقیقی منظرنامہ: Shenzhen سے فون ایکسیسریز منگانا
میری اپنی مثال: شینزین کے ایک سپلائر سے فون کیسز 1.20 ڈالر فی یونٹ (FOB) پر خریدنے والے Amazon سیلر نے 7.5 سے 25% سیکشن 301 ٹیرف اور شیئرڈ کنٹینر فریٹ شامل کیا، پھر بھی 14.99 ڈالر کی ریٹیل قیمت پر تقریباً 50 سے 55 فیصد gross مارجن رہا۔ وہی مصنوعہ امریکہ میں ٹھیکے پر بنوانے پر لاگت 4 سے 5 گنا بڑھ جاتی ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درآمد کار اسی حساب کی وجہ سے ٹیرف کے باوجود چین سے نہیں نکل پائے۔
ٹیرف نے امریکی درآمد کا فیصد کیسے تبدیل کیا؟
چین کے حصے میں کمی کی سب سے بڑی وجہ 2018 سے چلے آ رہے سیکشن 301 ٹیرف ہیں:
- تقریباً 500 ارب ڈالر کے چینی سامان پر 25 فیصد اور مزید 120 ارب ڈالر پر 7.5 فیصد ٹیرف عائد ہوا۔
- Peterson Institute (PIIE) کے مطابق چینی اشیاء پر اوسط امریکی ٹیرف 19.3 فیصد جا پہنچا ہے۔ 2018 سے پہلے یہ صرف 3 فیصد تھا۔
- مئی 2024 کے اضافی فیصلے: چینی برقی گاڑیوں پر 100%، سولر سیلز پر 50%، سیمی کنڈکٹرز پر 50%، لیتھیم بیٹریوں پر 25% اور اسٹیل پر 25% ٹیرف۔
- 800 ڈالر کا De Minimis استثنیٰ ختم کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔ اسی راہ سے 2023 میں ایک ارب سے زائد پارسل امریکہ پہنچے تھے جن کی اکثریت چین سے آئی۔
آپ کا ٹیرف آپ کی پروڈکٹ کے HS کوڈ سے طے ہوتا ہے، خبروں کی سرخیوں سے نہیں۔ اسی لیے ہر آرڈر سے پہلے کلاسیفیکیشن کی تصدیق کریں۔
آپ کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ آپ کی پروڈکٹ کس لسٹ پر آتی ہے۔ فرنیچر اور کھلونوں کا بڑا حصہ لسٹ 4A (7.5%)
Leave a Reply